نذر ومنّت میں ہندوستانی جدت طرازیاں اور خرافات
یہود ومشرکین اور ہندئووں کی پیروی میں ان سے سیکھ کر ہند و پاک کے مسلمانوں نے نذر ومنت میں بہت ساری ایجادات، اختراعات اور جدت طرازیاں عمل میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک ذیل میں پڑھئے:
(سری مُلّا کی۔۔(پشتو میں: سر د مُلا) اور (پائے سید اکبر کے۔(پشتو میں۔خپے د سید اکبر)۔۔
(بڑے پیر کا سوا روپے۔۔۔(پشتو میں: د لوئے زوان پاویز) اور (مرغی کا پہلاانڈا)۔ یہ دونوں کام شیخ جیلانی رحمہ اللہ سے ڈر کی وجہ سے، ان کی ناراضگی کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لئے ہوتے ہیں، جوکہ شرکِ اکبر سے کم نہیں۔
اس قسم کے حصے بہرے اپنی طرف سے شریعت کے احکامات کو بالائے طاق رکھ کر مقرر کرنے کا رواج کیسے شروع ہوا؟
ہمارے بہت سارے کام ایسے ہیں کہ اگران کی چھان بین کی جائے تو ان کا سرا ہندو سماج اور مشرکینِ سابقین سے جا ملتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہم ہندئوں کے ساتھ کئی صدیاں اکھٹے رہے ہیں۔اس طرح بہت سارے کاموں کی بنیاد یہود ونصاری میں ملتاہے۔ قربانی کے بکرے وغیرہ کے سری مُلّا کی، اور پائے سیّد کے، اس طرح پیرانِ پیر (اصل میں پیرِ پیران صحیح ہے)کا سوا روپے نذر وغیرہ جیسے غیر شرعی خرافات کی بنیاد بھی اسلامی تعلیمات میں کہیں نہیں ملتا۔البتہ ہندو سماج اور اسرائیلی روایات میں ان کا قوی بنیاد ملتاہے، اور وہیں سے مسلمانوں میں رائج وشائع ہوئے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو یہ لیجئے ثبوت:
…مفسرابن جریر طبری متوفی 310 ہجری نے تفسیر طبری میں، …علامہ ابن کثیر متوفی 774 ہجری نے تفسیر ابن کثیر میں،…اور امام بغوی متوفی516 ہجری نے تفسیرمعالم التنزیل (تفسیر بغوی) میں،…اور حافظ ابن عساکر متوفی 571 ہجری رحمہم اللہ نے تاریخِ دمشق میں بنی اسرائیل میں اس قسم کے (حصوں بہروں)کے مقرر کرنے کا قصہ کچھ یوں بیان کیا ہے:
’’جب موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم نے اہلِ کنعان پر حملہ کیا تو اہلِ کنعان نے جنگی چال کے طور پر بلعام باعوراء (بلعم باعوراء کا قصہ حاشیہ کی شکل میں آخر میں دیا گیا ہے) کے مشورے سے اپنی خوبصورت عورتیں بنی اسرائیل میں بدکاری کیلئے چھوڑ دیں تاکہ اس بُرے عمل کی نحوست کی وجہ سے بنی اسرائیل شکست کھائے۔
اس عمل میں اہل کنعان کی ایک عورت جس کا نام کسبتی تھا اورصور کی بیٹی تھی، کے ساتھ بنی اسرائیل کے ایک سردار جس کا نام زمری بن شلوم تھا،جو شمعون بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کا پوتا تھا،اور سردار تھا،کا ملاپ ہو گیا۔زمری بن شلوم نے اس عورت کو دیکھا تو پسند آگئی۔اس کا ہاتھ پکڑ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس لے گیا اور کہنے لگا۔اے موسیٰ علیہ السلام! تم تو یہی کہو گے کہ یہ لڑکی تجھ پر حرام ہے اس کے نزدیک نہ ہونا۔موسیٰ علیہ السلام نے کہا،ہاں!یہ تجھ پر حرام ہے۔اس نے کہا اے موسیٰ علیہ السلام! و اللہ میں تو تمہاری بات نہ سنوں گا۔
پھر اس لڑکی کو اپنے خیمہ میں لے گیا اور اس کے ساتھ ہم بستر رہا (اس سے زناکیا)۔اللہ عزوجل نے
بنی اسرائیل میں اس فعلِ بد کی نحوست کی وجہ سے طاعون بھیج دیا۔موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا سردار فنحاص ابن عیزاربن ہارون،زمری بن شلوم کی اس حرکت کے وقت وہاں موجود نہ تھا، اور اس حرکت سے ساری قوم میں طاعون پھیل گیا۔ یہ سارا واقعہ فنحاص کو معلوم ہواتو اس نے اپنا لوہے کا نیزہ اُٹھایا اور زمری کے خیمہ میں داخل ہوا۔وہ دونوں (زمری اورکسبتی) لیٹے ہوئے تھے۔دونوں کو ایک ہی نیزے میں پِرولیا،اور نیزے کو سر پرسے بلند کر کے نکلا۔فنحاص نوجوان اور قوی تھا، یہ بوجھ اُٹھالیا، اور اٹھائے ہوئے کہتا جا رہا تھا کہ: ”اے خدا! ہم تیرے نا فرمانوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کر تے ہیں۔اب طاعون ختم کردے۔
طاعون ختم ہوگیا۔طاعون سے ہلاک ہونے والے بنی اسرائیل اس مدت میں کہ اس نے عورت
حاصل کی پھرفنحاص کے ہاتھوں قتل ہوا، ستر ہزار آدمی مر گئے، ایک روایت میں کم سے کم بیس ہزار۔ فنحاص کی اس شکر گزاری میں بنو اسرائیل جب کبھی ذبیحہ کرتے ہیں، تو جانور کی سِری اور دَست اور اپنے پھلوں اور اموال کی پہلی چیز اولادِ فنحاص کو نذرانہ کے طور پر دیتے ہیں۔“(تفسیر طبری،،،تفسیر بغوی،،، تفسیر ابن کثیر، سورت اعراف،آ یا ت:176,175،،،تاریخِ دمشق،حرف الباء،بلعم ویقال بلعام بن باعوراء)
قارئین!آخری جملوں پر غور کیجئے! صاف لکھا ہے کہ بنو اسرائیل فنحاص کی اولاد کو اس واقعے کے بعد شکرانے کے طور پر جانور ذبح کرتے وقت سری اور پائے اور دوسرے مال اور پھلوں وغیرہ میں پہلا پھل دیتے آ رہے ہیں۔
اب مسلمانوں کا حال دیکھئے، مسلمانوں کے ہاں مندرجہ ذیل بدمعاشیاں اور شریعت سے بغاوتیں چل رہی ہیں!
٭……٭امامِ مسجد کے سری پائے (قربانی کے جانور میں سر اور پیر)، چاہے امامِ مسجد غنی اور امیر کیوں نہ ہو، تب بھی وہ اپنی اس کو اپنا واجبی حق سمجھ کر وصول کرے گا،حالانکہ مستحق ہونا امامِ مسجد ہونے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ چیزیں غریب اور مستحقینِ زکوۃ کا بھی حق نہیں، یہ قربانی کرنے والا کا حق ہے، کہ وہ جیسا چاہے اس کو استعمال کر سکتاہے۔
٭……٭(اہلِ بیت کا شکرانہ جو سوا روپے) کے نام سے مشہور ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے یہ مخلوق کے نام نذر ہے اور مخلوق کے نام نذر ماننا کفر ہے۔
٭……٭ یہ رواج تو اب نہیں رہا مگر تیس چالیس سالے پہلے یہ گندہ عقیدہ بھی رائج تھا کہ مرغی کا پہلا انڈا اہلِ بیت کے گھر پہنچانا اس خیال اور عقیدہ کے ساتھ کہ یہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی اولاد میں سے ہیں، اور یہ شیح صاحب کا نذر بلکہ اس کا حق ہے، بلکہ بعض لوگ تو یہاں تک عقیدہ رکھتے تھے یا رکھتے ہیں کہ اگر ایسا نہیں کیاتو ہماری جان ومال اور اولاد کو نقصان پہنچے گا،ایسا عقیدہ رکھنا سیدھا سیدھا شرک ہے اسلئے کہ شیخ صاحب رحمہ اللہ کی نذر ومنّت ماننا،غیراللہ کی نذرومنّت مانناہے، اور مخلوق کی نذر ماننا اسلام سے خارج کرنے والا شرکِ اکبر ہے۔
اگر مسلمان روزانہ بے شمار گناہوں کا ارتکاب کرکے بھی یہ عقیدہ نہ رکھے کہ اس سے اولاد کو نقصان پہنچتا ہے، مگر شیخ صاحب کی نذر نہ مان کر اولاد کو نقصان پہنچنے کا غیر شرعی شرکیہ عقیدہ رکھے تو سمجھو کہ یہ اللہ کا بندگی نہیں کرتا بلکہ شیخ رحمہ اللہ کی بندگی کرتا ہے اور شیخ صاحب اس شخص کی اس گندہ عقیدے سے بری ہے کیونکہ وہ اپنے وقت کے ایک مئوحد، عالم باعمل اور شرک و بدعت سے بیزار اللہ کے بڑے جلیل القدر ولی تھے۔
مخلوق چاہے نبی ہو یا ولی، کسی کو بھی مافوق الاسباب خیروشر اپنی زندگی میں بھی نہیں پہنچاسکتے تھے، تو بعد از وفات تو بطریق اولیٰ نہیں پہنچاسکتے۔ جب یہ حضرات زندہ تھے اور ان کی خدمت میں کوئی حاضر و موجود ہوجاتا اور اسے سے ندد طلب کرتا تو بشرطیکہ وہ مدد ان کی پہنچ اور استطاعت میں ہوتی، تو پہنچا سکتے۔ اور اگر کوئی دور ہوتا اور اس فریادی کی آواز ان تک نہ پہنچتا تو بھی اس فریادی کی فریاد کی علم نہ ہونے کے بھی یہ جلیل القدر حضرات اس فریادی اور مدد کے طلبگار شخص کی مدد سے لاچار اور مجبور تھے۔
بلکہ انبیاء علیہم السلام، اولیاء رحمہم اللہ، جنات، فرشتے علیہم السلام، شہداء رحمہم اللہ سب اللہ کے دَر کے فقیر، اللہ کے سامنے اپنی حاجات کے لئے مجبور اور اپنی ہر ضرورت کے لئے اللہ ہی سے مانگنے والے محتاج ہیں۔
خدارا! انصاف کیجئے،کیا آج کا مسلمان کس راہ چل رہا ہے، اسلام کو چھوڑ کر بنی اسرائیل کے طریقے اپنائے ہوئے ہیں،اللہ جانتا ہے،ایسے مسلمانوں کا انجام کیا ہوگا؟
مسلمانوں نے شائد اس قصے کی چکر میں آکر حصے بہرے شروع کئے ہو۔شاید بدعتی شرک پسند ”مولوی“ جو اولیاء رحمہم اللہ کے تصرف کے قائل ہیں،انہوں نے اہلِ بیت اور اولیاء رحمہم اللہ کی اولاد میں سے ہونے کے دعویدار بننے کے بعد بنی اسرائیل کی طرح اپنی بدمعاشی قائم کرنے کیلئے یہ ”جگا ٹیکس“ عوام پر لگائے ہیں کہ دیکھو جی!! ہمارے اجداد کی وجہ سے تمہیں رزق مل رہاہے،یہ ہو رہا ہے وہ ہورہا ہے اس لئے ہمارے حصے کا خیال اللہ عزوجل کے حصے سے زیادہ رکھو،العیاذ باللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلعام باعوراء اپنے وقت کے ولی تھے،بہت نیک، عابد اور زاہد انسان تھے مگر جب اپنے وقت کے نبی موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش میں لوگوں کے بہکاوے کی وجہ سے شریک ہوئے تو اللہ عزوجل نے اس کی ولایت اور بزرگی سلب کی، اور شیطان بن گیا۔ بلعام باعوراء کے قصے سے ان غافل لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو موسیٰ علیہ السلام اور کسی فقیر کا من گھڑت قصہ نقل کر کے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ دیکھو!
اللہ عزوجل نے نبی کی دعا سے اس شخص کو اولاد نہ دی، اور ایک فقیر کی دعا سے دے دی، اور پھر اس قصے کو مضبوط بنانے کیلئے قربانی کا ذکرتے ہیں کہ دیکھو نبی موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بدن کا گوشت کاٹ کر نہیں دیا اور اس فقیر نے اپنی جسم کے ہر،ہر حصے سے گوشت کاٹ کر موسیٰ علیہ السلام کو دیا کہ جا! اپنے رب عزوجل کو دے آ۔ العیاذ باللہ من ذلک۔
اس قصے کا کوئی سر ،پیر اور اصل کتابوں میں نہیں۔ یہ خرافات قصہ جاہل صوفیاء کے درمیان سینہ بسینہ چلا آرہا ہے، مستند کتب تاریخ میں اس کا اَتہ پتہ نہیں،احادیث رسول ﷺ بھی اس قصے سے خاموش ہیں تو پھر کس دلیل پر یہ مانی جاتی ہے۔ حوالہ طلب کرنے پر آئیں بائیں کرنے لگتے ہیں،کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیتے۔
نبی کی قربانی سے بڑھ کر کسی کی قربانی نہیں ہوسکتی۔ یہ گمان کرنا بھی انبیاء کا مقام و مرتبہ اور قربانیاں ہیچ ماننے کے مترادف ہے۔ نبی کریمﷺ سے پوچھاگیا کہ:
(ای الناس اشد بلاء؟ قال الانبیاء ثم الامثل فالامثل فیبتلی الرجل علی حسب دینہ،فان کان دینہ صلبا اشتد بلاؤ ہ وان کان فی دینہ رقۃ ابتلی علی حسب دینہ) (سنن ترمذی،کتاب الزہد، باب ماجاء فی الصبر علی البلاء)
پوچھاگیا کہ کن لوگوں پر زیادہ مصیبتیں آتی ہیں۔،فرمایا:انبیاء پر، پھراولیاء پر،،اس طرح درجہ بدرجہ۔۔۔۔
ایک انسان کی آزمائش اس کے دین کی مضبوطی کے مطابق کی جاتی ہے۔ اگر دین مضبوط ہو تو اس پر اس حساب سے مصیبتیں سخت اور زیادہ آتی ہیں،اور اگر اس کے دین میں نرمی اور تساہل ہو تو اس حساب سے اس کی آزمائش کی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ کیسا ممکن ہے کہ سردارِ دو جہاں فرمائے کہ انبیاء علیہم السلام کی آزمائشیں سخت اور ان پر کڑی سے کڑی مصیبتیں آتی ہے اور جاہل بلکہ مشرک صوفیاء کہے کہ نہیں ایسا نہیں فقراء کی قربانیاں زیادہ ہیں۔
ان کو ابراہیم علیہ السلام کے واقعات پڑھنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ ان کو معلوم ہوجاتا کہ… اللہ عزوجل کے حکم پر اپنے شیر خوار بچے اور اپنی پیاری بیوی کو دشت وبیاباں میں چھوڑ جاتے ہیں،…اللہ عزوجل کے حکم پر اپناجگر گوشہ ذبح کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں،… اور نہ صرف یہ بلکہ اللہ عزوجل کے حکم پر آگ میں کُودنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
ایسے قصے سناکر جاہل پیروں کامقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ جاہل عوام کی ذہنوں میں یہ بات ڈالے کہ دیکھو اللہ عزوجل کے دربار میں قربت اور ولایت ان کو ملتی ہے جو زیادہ قربانی دیتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ لوگ اللہ عزوجل کو۔ العیاذ باللہ من ذلک۔ مجبور بھی کر سکتے ہیں، اور اللہ عزوجل ان کی بات بھی نہیں ٹالتا، اس لئے اللہ عزوجل سے مت مانگو بلکہ ہمارے پاس آکر ہم اللہ سے مانگا کریں گے تمہارے واسطے، تاکہ بات پکی ہو، اور یہ سارا کھیل وہ جاہل پیر اپنے”آستانے بلکہ بُت کدہ“ پر لوگوں کا تانتا بندھا دیکھنے اور ان سے بکثرت ”نذرانے“ اور شکرانے وصول کرنے کی غرض سے کرتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور قصہ موسیٰ علیہ السلام اور امام غزالی رحمہ اللہ کا پیش کرتے ہیں کہ آسمان پر موسیٰ علیہ السلام اورامام غزالی رحمہ اللہ کی روح کوحاضر کرکے مکالمہ ہوا، جس میں موسیٰ علیہ السلام لاجواب ہو گئے، ایسے تمام قصے جن میں اولیاء اللہ رحمہم اللہ کی فضیلت انبیاء علیہم السلام پر ثابت کی گئی ہو ، وہ باتفاقِ محققین علماء اور مفسرین،جھوٹ کے پلندے اور مشرک پیرانِ طریقت کی کی گھڑنت ہیں، ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ ایسے تمام قصے زندیقوں نے دکانداری چمکانے کی غرض سے تراشے ہیں۔