میں نے سیفیت سے توبہ کیوں کی؟
میرانام رانا ظفر ہے۔فیصل آباد کے قریب چک نمبر66ج ب میں میری رہائش ہے۔
’’ میں ایک مرتبہ سیفی فرقہ کے پیر ،جس کا آستانہ جھنگ روڈ نزد ائر پورٹ چوک پر واقع تھا ، کے پاس ایک دوست کے ساتھ گیا۔پیر صاحب بڑے انوکھے انداز سے ذکر کرا رہے تھے، کوئی تڑپ رہا تھا ، کوئی چیخ رہا تھا ۔میں حیرانی کے ساتھ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ اس پیر نے مجھے اپنے پاس بلایا اور مجھے کلمہ طیبہ اور ایمانِ مفصل پڑھایا(1)، اور میرے ہاتھوں کو خوب جھٹکے دئے ،اور بعد میں مجھے پتہ چلا کہ میں اب اس کا مرید ہو چکا ہوں۔مجھے تعجب ہوا کہ یہ کیسی زبردستی بیعت ہے! پیر کانام صوفی امجد ظہیر ایڈووکیٹ تھا ۔دوسرے مریدوں کو وجد آتاتھا مگر مجھے نہیں، اس پر میں پریشان بھی تھا اور ان سے پوچھتابھی تھا۔ میری نہ ماننے اور ضد کرنے پر محسن شاہ نامی خلیفہ نے مجھے کہا کہ تو بناکر کرو، یعنی جھوٹ موٹ وجد اور جذبہ اپنے اُوپر طاری کرائو۔جب کئی مہینے میں نے ایسا کیا تو مجھے احساس ہواکہ
یہ تو دھوکہ ہے۔ایک دن میرے پیر نے میرے پاس پیر ذوالفقار نقشبندی دیوبندی(رحمہ اللہ) کی کتاب دیکھی اور کہا کہ یہ مت دیکھو۔ اوربہت برا منایا۔وقت گزرتاگیا اور میری بے چینی بڑھتی گئی ۔ ان لوگوں کے عقائداپنے پیر کے بارے میں یہ تھے کہ پیر صاحب مریدوں کے دلوں کا حال جانتا ہے ۔ لیکن مجھے تعجب اس بات پر تھا کہ پھر پیر صاحب کو میری اندرونی بے چینی کا علم کیوں نہیں ہو جاتا ۔ تقریباً ایک سال میں ان کے پاس رہا ،لیکن میں جو کچھ کرتاتھا وہ حقیقت نہیں بلکہ جھوٹ موٹ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حاشیہ: حالانکہ’’ ایمان میں داخل ہونے کیلئے اور داخل ہونے کے بعد چھ کلمے ،ایمانِ مفصَّل یا ایمانِ مجمل کے الفاظ سیکھنا ضروری نہیں البتہ مفید ہیں۔‘‘(آسان فقہی مسائل،ناشرمکتبۃ بیت العلم کراچی،ص:114)مگر یہ لوگ اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے بلکہ یہ لوگ ان کے مخصوص عقائد کے خلاف عقیددہ رکھنے والا ہر مسلمان کو کافر کہتے ہیں اس لئے یہ لوگ بیعت کے وقت ایمانِ مفصَّل پڑھاتے ہیں۔ حالانکہ ان الفاظ کا سیکھنااورزبانی یاد کرنالازم نہیں بلکہ ان الفاظ میں بیان کردہ عقائد پر ایمان رکھنا فرض ہے،اوراگر ان میں سے ایک پر بھی ایمان نہ ر ہے تو انسان دائرہ اسلام سے خارج تصور ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے مجھے یہ منافقت لگنے لگا ۔ اس دوران پیر سیف الرحمن کاعرس آ گیا ۔ میں امجد ظہیر کے ہمراہ وہاں پہنچا لیکن وہاں بھی اسی طرح سب کچھ ہورہاتھا،سب پیسے جمع کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ایک دن میرا
ایک جاننے والا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو خواب میں حضور ﷺ کی زیارت ہوئی ، اور آپ ﷺ نے تم کو امجد ظہیر سے بیعت کاحکم دیا۔ میں اس بات کی تصدیق کیلئے آیا ہوں ، میں نے اسے کہا کہ تم کویہ کس نے بتایا؟ انہوں نے ایک پڑوسی سیفی کانام لیا۔میں نے سختی سے انکار کیا کہ میرے بارے میں کیسی بات مشہور کردی گئی ہے۔میرا دل لرزاُٹھا کہ یہ لوگ اپنے جھوٹے مسلک کیلئے اس حد تک گر سکتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر بھی جھوٹ بولنے لگے ہیں۔ انہی دنوں میں نے مولانا الیاس گھمن صاحب کے بیانات بریلویت کے موضوع پر سننا شروع کر دئے تھے۔جس سے ان دغا بازوں کی حقیقت مجھ پر کھل گئیں۔میں آخر میں تمام سیفی بھائیوں کی خدمت میں دردمندانہ گذارش کرنا چاہتا ہوں کہ اس فرقے کے دھوکے سے نکلیں۔‘‘ (فرقہ سیفیہ کا تحقیقی جائزہ،ص:248تا252)
میں ( مئولف کتاب ہذا )اور مولوی جمال دین ایک ہی سال اس فرقہ کے پیر سے بیعت ہوئے تھے ، مجھے وہ سال یاد ہے ،اور اس طرح کہ وہ پیر ہمارے گائوں کے ایک سکول ٹیچرنے،جو اس پیر کے گائوں میں پڑھاتے تھے، اسے ہمارے گائوں لایاتھا ،اور اس دوران ہم سب اندھا دھند اور بغیر کچھ سوچے سمجھے بیعت ہوئے تھے مگر اللہ نے مجھے ہدایت نصیب فرمائی ،اور مجھ پر اس فرقے کی کفر و جہالت کھل گئی ، اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر کیاجائے کم ہے، اور جمال دین اب تک کفر وضلالت میں ڈوباہواہے۔اس نے اپنے ایک کتابچے میں اپنی بیعت کے بارے میںپیر صاحب کی طرف سے استخارہ کا حکم ہونے اور اس کے بعد ایک من گھڑت اور خودساختہ خواب والی جو بات لکھی ہے وہ بالکل جھوٹ ہے،سالِ بیعت بھی (1981) غلط لکھا ہے۔ اس پیر کا ہمارے گائوں میں پہلی بار آنے کا سال تقریباً1984 یا اس کے بعد ہے ، اس سے پہلے بالکل نہیں۔مگر اپنے طریقے کیلئے، یا اپنی جھوٹی شان بڑھانے کیلئے ، یا سادہ لوح لوگوں بالخصوص خواتین کو اپنے دامِ تزویر(دھوکہ) میں پھنسانے کیلئے شیطان ابلیس سے بھی بڑا جھوٹ بولنا ان باطل طریقے والوں کیلئے دنیا کا سب سے سستا اور آسان کام ہے۔ان سے سچ اُگلوانے کیلئے ان کو{تین عددبڑی قسم}کیلئے کہاجائے تو پھر دیکھنا کہ یہ کیسے بھاگتے ہیں۔
قارئین! ان جعلی پیروں اور ان کے مریدوں کے’ دل کا کو دنا ‘سب ڈرامہ بازی اور اداکاری ہے ، ورنہ اُن کے کندھے اور سینے کو ملانے والے ’بڑے رَگ‘ پر زور سے ہاتھ رکھئے اور پھر ان کو کہئے کہ اب کرو ۔یا نائی والا چھری اس رَگ پر رکھئے اور ان کو کہئے کہ اب قلب کو جاری کرو۔ان شاء اللہ،ان کے ’جھوٹ موٹ والے دل‘ پھر ہلیں گے نہیں،اس لئے کہ چھری رگ کے قریب ہونے کی وجہ سے حرکت کی صورت میں رگ کٹنے کا قوی خطرہ ہوگا۔
قارئین! دل پسلیوں کے نیچے ہوتا ہے ،اور ہر پسلی ایک جدا ہڈی اور اس کے اُوپر گوشت پر مشتمل ہوتی ہے ، اس لئے دل کا زور سے ہلنا بھی اگر ہوتو اس کا ہلنا مرد کے پستان کے بالکل نیچے محسوس ہوتاہے جبکہ ان کی اس ’’اداکارانہ بناوٹی کام ‘ ‘میں مردکا پورا پستان ہل رہاہوتاہے ،اور اس کو ہلانے کیلئے کندھے اور سینے کو ملانے والی بڑی رگ ایک ’’خاص اداکارانہ حرکت ‘ ‘کے ساتھ ہلایاجاتاہے اور اس کویہ جعلساز’’ دل کا کودنا‘ ‘ کہتے ہیں جو محض جھوٹ ہے۔
…قارئین! ایک اہم اورنکتے والی بات بھی یاد رکھئے: وہ یہ کہ ان کے مریدوں میں خواتین بھی شامل ہوتے ہیں یعنی مریدنیاں صاحبات۔ان سے ذرا پوچھاجائے کہ ان بے چاریوں کے} قلب{ کیوں جاری نہیں ہوتے؟ اُن کے دل کیوں نہیں کودتے ؟ان کے دل کیوں نہیں ہلتے؟؟؟کیا ان کو }قلب{ جاری کرنے یا دل کے کودنے کا ثواب نہیں چاہئے؟ ؟؟ضرور چاہئے اور اسی لئے تو سادہ لوح بیبیاں ’ اپنی گمانوں کے مطابق ’کچھ پانے ‘ کیلئے بظاہر اچھے لوگوں کے پاس جاتی ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ اگر وہ (صاحبات)کندھے کو ہلابھی دے تو یہ کام ان سے نہیں ہوسکے گا۔ہم نے بات میدان میں ڈال دی ،تجربات کروانایا ان}ذلیل القدر{ لوگوںکواس کیلئے بولنا ان ہی کاکام ہے جو اس کی حقیقت جاننا چاہتا ہو۔میں جب ان کا ’پیربھائی‘ تھا تو اس وقت یہ اَداکاری میں خوب کرسکتاتھا ،اور ہمارے گائوں میں ان کا ایک بڑا ’’گُرو‘‘ لوگوں کو میری مثالیں دیتاتھا کہ اس لڑکے کے ’لطائف‘ خوب کھلے ہیں ، اس کا قلب خوب جاری ہے ، اس سے اس کی مراد’ دل کا کودنا ‘تھا ۔میں ربِّ کعبہ کی قسم کھاکر کہتا ہوںکہ یہ ایک ڈرامہ ،کھیل اور اداکاری تھی اس کے سوا کچھ نہیں۔
مذکورہ بالا فیصل آباد کے راناظفر کے قصے میں اس کی طرف سے جھوٹا خواب اس کی طرف منسوب کیا گیاہے ، اس مولوی جمال دین کے قصے بھی قارئین پڑھ چکے ،اب راہِ ہدایت اللہ کی توفیق سے نصیب ہوتی ہے۔یہ فرقہ ایک بڑے فتنہ سے کم نہیں بلکہ دجّال کے فتنہ سے بھی بڑا فتنہ ہے اس لئے کہ دجال کے بارے میں تو ہم سب کو نبی اکرم ﷺنے پوری معلومات فراہم فرما ئے ہیں جبکہ یہ لوگ بزرگی کے لباس میں فتنہ ہے اس لئے عام لوگ ان سے بچ نہیں سکتے بلکہ ان کی دامِ تزویر اور دھوکے میں آجاتے ہیں اس لئے ان کا فتنہ بڑاہے۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ دوست کے جامہ میں دشمن ،یا آستن کا سانپ۔ یا یوں سمجھئے کہ اپنا باپ خفیہ طور پر دشمن بن جائے تو اس کی شر سے کون بے وقوف حفاظتی تدبیر کرے گا ؟اس لئے کہ وہ بے چارہ تو اس کو شفیق باپ ہی سمجھے گا ۔مگر ہمارے دینی بزرگوں نے وقتاً فوقتاً ایسے لوگوں کی نشان دہی کی ہے،علامہ ابن ابی العز حنفی متوفی 792 ہجری دینِ اسلام میں فتنوں کے اسباب کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’دنیا میں فساد تین قسم کے لو گوں کی وجہ سے شروع ہوا جیسا کہ مشہور تابعی، فقیہ اور عارف باللہ عبدا ﷲا بن مبارک رحمہ اللہ متوفی 185 ہجری نے فرمایا:
؎ وَ ہَلْ اَفْسَدَ الدِّین اِلَّا الْمُلُوک ۔۔۔۔۔۔۔۔وَ اََحْبَارِ سُوء وَ رُہْبَانُہَا
’’اور دین کو تین ہی فرقوں سے سخت فساداورنقصان پہنچا ہے۔یعنی ظالم بادشاہ ،برے علمائ( علمائے سوء ) اور جاہل پیروں سے۔‘‘
.1پس ظالم بادشاہ شریعت پر ظالمانہ سیاست کو مقدم کر تے ہیں۔اور ان دونوں کو ٹکراتے ہیں، اور ظالمانہ سیاست کو کتاب اﷲ اور سنت رسولﷺ پر مقدم کرتے ہیں ۔
.2 اوربُرے علماء وہ علماء ہیں جو اپنے غلط آراء اور قیاسِ فاسد کے ذریعے حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا رہے ہیں۔اور شریعت نے جن چیزوں کو منع فرمایا ہے، ان کوکر تے ہیں، اور جن کو کرنے کا حکم دیتے ہیں ان کو ترک کرتے ہیں ۔مطلق کو مقید اور مقید کو مطلق بنا تے ہیں،(جیسے اہل ِ بدعت کا شیوہ ہے )۔وعلی ھذا القیاس ۔۔
.3رھبان وہ جاہل صوفیائ(پیر طبقہ) ہیں جو ایمان اور شریعت کی حقیقت پر ذَوق،وجد، خیالات اور باطل شیطانی کشو فات، جو ایسے شریعت کو جائز ٹھہرا تے ہیں جس کا حکم ا ﷲ تعالیٰ نے نہیں دیا ہے، اور اس دین کی ، جسے اﷲ تعالیٰ نے نبیﷺ کی زبان سے مشروع کیا ہے، کو شیطان کے بہکاوے اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے باطل ٹھہرا رہا ہے۔‘‘ (شرح عقیدۃ الطحاویہ ، ص:204)
مجدد الف ثانی رحمہ اللہعلمائے سوء کادنیا کی لالچ اور رغبت میں مبتلا ہونے کا رونا یوں روتے ہیں:
’’وہ علماء جو اس بلا میں مبتلا ہیں ،اور اس کمینی دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں ،وہ دنیا کے عالموں میں
سے ہیں اور بُرے عالم اور لوگوں میں سے بد تراور دین کے چور یہی عالم ہیں،حالانکہ یہ اپنے آپ کو دین کا پیشوا جانتے ہیں اور مخلوقات میں سے اپنے آپ کو بہتر خیال کرتے ہیں ۔ کسی عزیز نے شیطان لعین کو دیکھا کہ فارغ بیٹھا ہے اور گمراہ کرنے اور بہکانے سے خاطر جمع کیا ہوا ہے۔اس عزیز نے اس امر کا بھید(راز) پوچھا ، لعین نے جواب دیا کہ اس وقت کے بُرے عالم میرے ساتھ اس کام میں میرے مددگار ہیں اور مجھ کو اس ضروری کام سے فارغ کر دیا ہے ۔ ‘ ‘ (مکتوبات امام ربانی،مترجم ، ج:1،مکتوب نمبر :33،ص:191,190)
ا ے غافل انسان!اللہ عزََّ اِسْمُہُ سے ڈرو،اور آخرت کی فکر!
اَلْلّٰھُمَّ اَرِنَاالْحَقََّ حَقََّا وَّارْزُقْنَا اِتِّبَاعَہُ،وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلََا وَّارْزُقْنَا اِجْتِنَابَہُ۔
اللہ سے دست بدعا ہوں کہ میری اس کاوش کو پڑھنے والے کے عقائد کی درستگی کا سبب بنادے،آمین.