اسلام ایک عالمگیر مذہب

اسلام ایک ہمہ گیر اور عالمگیر مذہب ہے۔ اس میں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں ایسی رہنمائی ملتی ہے جسے دیکھ اور پڑھ کر انسان حیران رہ جاتاہے۔اسلام کی مثال ایک ایسے شفاء خانے کی ہے جس میں ہر مرض کا شافی علاج موجود ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس دین نے قیامت تک باقی رہناہے ،اس لئے کہ آپﷺ آخری نبی ہے،ا ور لازمی بات ہے کہ آپﷺ کو ملنے والادین بھی آخری دین ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:{وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا کَافَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیرًا وَّ نَذِِیرًا}(سورت سبائ،آیت:28)’’اور ہم نے آپﷺ کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبری سنانے والااور ڈرانے والا بناکر بھیجاہے۔‘‘پیغمبرِ انسانیت محمد مصطفیٰ ﷺ تمام اُمت کیلئے تمام ظاہری اور باطنی امراض کے علاج و اصلاح کیلئے بطورِ آخری نبیﷺ مبعوث فرمائے گئے۔اور آپﷺ کو ایک ناقابل تنسیخ شریعت مل گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ  کے اقوال و افعال میں ظاہری جسمانی بیماریوں کا علاج بھی موجود ہے ،اور روحانی اور باطنی امراض کا علاج بھی ۔
مثلاً:’’ایک شخص نے پوچھا کہ اگر برتن میں کوئی چیز ہو (جس کا نکالنا ضروری
ہو) تو ۔ ۔ ۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اس کو انڈیل دو( پھونک مار کر نہیں بلکہ برتن کو ایک طرف اُلٹا کر کے اُنڈیل دو ) ۔ ‘‘ (مشکوۃ ، باب الاطعمۃ)

اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا  بیمار کو{تَلْبِیْنَہ }(آٹے ،دودھ اور شہد سے بنتی ہے) پلانے کا حکم دیتیں ۔ اسی طرح اس شخص کو جس کو کسی کے مرنے کا رنج ہوتااس کو بھی پلاتیں۔اور (مائی صاحبہ  رضی اللہ عنہا) فرماتی : ’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے سناہے آپﷺ فرماتے تھے تَلْبِیْنَہ بیمار کے دل کو تسکین دیتا ہے اور رنج و پریشانی کو کم کر دیتا ہے ۔‘‘ (بخاری ،کتاب الطب ، باب التلبینہ للمریض)٭…٭کھمبی(Mushroom) اور اس کے پانی کے بارے میں فرمایا ہے :{اَلْکُمَاۃُ مِنَ الْمَنِّ وَمَائُ ھَاشِفَا ئ’‘ لِّلْعَین}(بخاری ،کتاب الطب،باب المن شفاء للعین)
’’کھمبی {   مَنْ}میں داخل ہے، اور اس کاپانی آنکھ کے امراض کے لئے دواء ہے۔‘‘اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:{اِنَّ ہٰذِہِ الحَبَّۃَ السَّودَاء شِفَائِِ مِن کُلِّ دَائِِ اِلاَّالسَّام}(بخاری،کتاب الطب ، باب الحبۃ السوداء  ،،،مسلم ،کتاب السلام،باب التداوی بالحبۃ السوداء )ترجمہ:’’اس کالے دانے میں موت کے علاوہ ہر مرض سے شفا ء ہے۔‘‘

چونکہ ایک نبی اُمت کیلئے مثلِ باپ کے ہوتاہے اسلئے وہ اپنی اُمت پر حد درجہ شفیق اور مہربان ہوتا ہے ۔ جس طرح روحانی بیماری کا علاج ایک نبی کا اولین مقصد ہوتاہے اس طرح جسمانی بیماریوں اور خطرات سے آگاہ کرنا بھی اس کے فرائضِ منصبی میں ضمنًاشامل ہوتاہے ۔ کیونکہ احکامِ الٰہی کی بجا آوری کیلئے انسان کو جسمانی بیماریوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نفسیاتی پریشانیوں سے آزاد ہونا بھی ضروری ہے۔اسی طرح روحانی اور باطنی بیماریوں کے علاج کیلئے آپﷺ نے اُمت کو تاکید کی کہ ایک مسلمان کی زبان ہر وقت اللہ کی یاد سے تَر ہونی چاہئے۔

شیطان چونکہ انسان کو وسوسوں میں مبتلا کرکے نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کرتاہے، اس لئے اس خنَّاس کی شر سے بچنے کیلئے آپﷺ نے اُمت کو معوذتین{ قُل اَ عُوذُ بِرَبِّ الفَلَق }،{قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَاس} اور آیۃ الکرسیپڑھنے کی تاکید کی ۔ مطلب یہ کہ نبی کریم نے اپنی اُمت کو وہ تمام طریقے بتائے جن کے ذریعے وہ ہر قسم کی روحانی اور جسمانی امراض سے مامون رہ سکے ۔ اگر کسی کو ناحق قتل ہونے کی سازش ہورہی ہو تو اس سازش سے اس بے گناہ شخص کو آگاہ کرنا ضروری ہے ، اس بارے میں حدیث ص:45 پر آرہی ہے،اس طرح کسی کو قتل کرنے کیلئے گھات میں بیٹھے دشمن سے بھی متعلقہ شخص کو آگاہ کرنا ضروری ہے ۔

اب مسلمان کے لئے ایمان کا خطرہ سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس خطرے سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا نبی ﷺ کاکام تھا ،اس لئے آپﷺ نے اُمت کو }گھات میں بیٹھے دشمن یعنی انسان اور شیطان کی شکل میں اس کے ایمان کیلئے خطرات{سے آگاہ فرمایا ۔ مطلب یہ کہ ہر زمانے میں جس جس قسم کے فتنے ظاہر ہونے والے ہیں اور جس میں مبتلا ہونا اُمت کیلئے ایمان کے لحاظ سے خطرہ بن سکتاتھا، ان تمام فتنوں سے پیشگی خبردار فرماکر ایک احسانِ عظیم فرمایا۔اسی طرح شرک کے مظاہر کے بارے میں یہ فرمایاکہ:
’’شرک چیونٹی کے پائوں کی آہٹ سے بھی زیادہ مخفی اور چھپاہواہے۔‘‘اسی طرح گناہ کی آسان تعریف آپﷺ نے یہ سکھائی :’’گناہ تیرے نفس میں پیداہونے والاکھٹکااورتیرے سینے میں ترددکانام ہے اگر چہ لوگ اس کے جوازکے فتوے دیتے پھریں۔ اور ایک روایت کے مطابق:گناہ تیرے نفس میں پیداہونے والا کھٹکا ہے ،اور یہ کہ تو اس بات کو برا سمجھو کہ کسی کو اس کی خبر ہو۔

اور ایک روایت کے مطابق : جب تیرے دل میں کوئی بات کھٹکے تو اسے چھوڑدو۔‘‘(مشکوۃ،باب الکسب و طلب الحلال،،،باب الرفق والحیاء )چونکہ معاشرے کے اندر فتنے موجود ہوتے اور پیدا ہوتے ہیں اس لئے ان فتنوں سے بھی آپ ﷺ نے اپنی اُمت کو آگاہ فرمایا،جس طرح قربِ قیامت کے علامات اور قیامت کے قریب سب سے بڑا فتنہ یعنی دجال کا ظہور ہے۔ان سب کے بارے میں آپﷺ نے اُمت کو خبردار کیا تاکہ اُمت بوقتِ وقوعِ فتنہ اس میں پھنس نہ جائے۔ا

ان حقائق کو دیکھتے ہوئے اس حقیقت سے بھی کوئی ذی شعور اور مخلص مسلمان انکارنہیں کر سکتا کہ انسانوں میں بھی بالکل اس طرح لوگ پیداہوتے رہیں گے جو دجال کی طرح جھوٹی جنت دکھاکر سادہ لوح لوگوں بالخصوص خواتین کو جہنم میں دھکیلنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ان کو آسان لفظوں میں }اِنسی شیطان { کہاجاتاہے جو }جنی شیطان{کے معاون کے طور پر خلافِ شرع اُمور میں لوگوں کو مبتلا کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔

ایسے میں اہلِ علم کا فرض بنتاہے کہ ایسے}دجال نما { انسانوں اور ان کے گندے عقائد سے اُمتِ محمدی کو خبردار کردے ۔ان
کے غلط عقائد کی وضاحت قرآن و سنّت کی روشنی میں کرکے عوام کو یہ بتائے کہ صحیح اسلامی عقائد کیاہیں ؟ اور }میٹھے میں لپٹا زہر{کونساہے؟
ان حقائق کو مدِ نظر رکھ کر اگر کتاب ہذا میں قارئین کسی فرقے یا شخص کانام دیکھے تو اسے تعصب اور فرقہ واریت نہ سمجھئے گابلکہ ڈاکٹر کی
طرح مریض کو اس کیلئے نقصان دہ چیزوں سے آگاہ کرنا سمجھئے گا تاکہ مریض کی ’’توحیدی صحت‘‘ پر برا اثر نہ پڑے۔

اس کی مثال نبی کریم ﷺکا ہمیں تمام فتنوں سے آگاہ فرمانا سمجھئے،کہ جس طرح آپﷺ نے ہمیں فتنوں سے آگاہ فرمایا۔ اسی طرح ہم مسلمانوں کو ’’ مسلمان کے لباس ‘‘ میں ملبوس ان لوگوں سے آگاہ کرنا اپنادینی اور قرآنی فرض سمجھتے ہیں جن کے عقائد وہ عقائد نہیں جو ہمیں نبی کریم ﷺ سے تواتر کے ساتھ پہنچے ہیں۔قرآن و سنّت میں اُمت محمدی کی اصلاح و خیر کی طرف بلانے اور شر سے بچانے کی جو ذمہ داری اہلِ علم پر ڈالی گئی ہے ،اس ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے بطورِ روحانی ڈاکٹر مسلمان کی ’’دینی صحت‘‘ کی حفاظت کی خاطران کانام لینا ضروری ہے تاکہ مسلمان ان مولویوں اور پیروں سے اپنی ایمانوں کو بچا سکیں ۔محترم قارئین!فروعی مسائل میں دو مولویوں کی دورائیں ہوسکتی ہیں اور اس طرح کی مثالوں سے چاروں مذاہب اور اہلِ حدیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔

مثلاً احناف دلیل کی بنیاد پر تکبیرِ تحریمہ کے بعدرفع یدین کے قائل نہیں جبکہ اہلِ حدیث دلیل کی بنیاد پر اس کے قائل ہیں ۔اس لئے ایک دوسرے کے بارے میں گمراہ یا اہلِ سنّت والجماعت سے خارج ہونے کا فتوی نہیں لگا سکتے ۔ مگر جہاں تک عقیدے کی بات ہے تو اس میں ایک مسئلے پر دو مولویوں کی دو رائیں درست نہیں ہو سکتیں ۔ اس لئے کہ عقیدہ اس تصدیقِ قلبی کانام ہے ’’جس پر کسی بھی وقت خطا اور غبن طاری نہ ہو سکے ۔‘‘(تحفۃ المناظر، ص:54)
مثلاً نبی کریم ﷺ کے بارے میں حاضروناظرہونے کا عقیدہ رکھنا،اس میں دو رائیں قطعاً نہیں ہو سکتیں :  …یا تو آپﷺحاضروناظرہوں گے ، یا حاضروناظر نہیں ہوں گے۔ 

٭حاضروناظرہونے کی صورت میں اس سے انکار کرنے والے گمراہی میں مبتلا ہوں گے۔…اور یا آپ ﷺحاضروناظر نہیں ہوں گے۔٭ حاضروناظرنہ ہونے کی صورت میں اس عقیدے کے قائلین گمراہی بلکہ شرکِ صریح میں مبتلا ہوں گے ۔مگر کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتاکہ جومیرا عقیدہ ہے وہ مجھے مبارک ،اور تیرا عقیدے تجھے مبارک ۔ایسا ہر گز نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ اگر کسی کو شرک پسند ہو تو اپنے لئے بے شک پسند کرے مگر دوسرے سادہ لوح مسلمان ا س کی وجہ سے کیوں شرک جیسے ناقابل معافی جرم کے مرتکب ہو؟قارئین! …ہمارا پیغام عالمگیر ہے …تمام مسلمانوں کیلئے ہے۔ اس لئے ہم اپنے محترم قارئین ،وہ جو بھی ہو جہاں بھی ہو ، کو آگا ہ کرنا چاہتے ہیں کہ کتاب کے آخری ابواب میں جس فرقے یا جس شخص کی بات ہو رہی ہے کہیں اس جیسا فرقہ یا شخص تمہارے گردوپیش میں تو نہیں؟اگر خدا نہ کرے، ہو بھی تو ہم نے ان کا پورا چہرہ ان کے گندے عقائد کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اس کتاب میں بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ بے خبری اور غفلت میں ہمارے مسلمان بھائی }ان زہریلے انسانی ناگوں {کے ڈسنے سے بچ سکیں اس لئے کہ ان کا زہر سیدھا ایمان میں فساد اور بگاڑ پیدا کرکے انسان کی اس زندگی میں کئے گئے اعمال اور اپنائے گئے عقائد تباہ کرکے انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔اُمید ہے کہ محترم قارئین کے ذہنوں میں یہ بات واضح ہوچکی ہوگی۔میں محترم قارئین سے اُمید رکھتاہوں کہ سیکھنے اور سمجھنے کے نیک مقصد کیلئے دل کو ہر قسم کی تعصبات اور تنگ نظری سے پاک کرکے اس کتاب کا مطالعہ کیجئے۔قرآن وسنّت کے مطابق پایاتو قبول کرنے میں نجات سمجھئے ،اور اگر آپﷺ کے خیال میں قرآن و سنّت کی تعلیمات کی روشنی میں اس میں کوئی کمی کوتاہی ہے تو رہنمائی فرمانے کیلئے مشکور رہوں گا۔                                 اَلْاَحْقَر  اکبر علی خان غَفَرَ لَہُ الْقَدِیر  

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top