علم کی روشنی …. جہالت کا علاج

حکایت ہے کہ ایک آدمی اپنے گاؤں میں ہاتھی لے کر آیا اور اسے کمرے میں باندھ دیا۔ کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔گاؤں میں اس سے پہلے کسی نے ہاتھی کو نہیں دیکھا تھا۔ اہلِ گاؤں کو خبر ہوئی تو وہ اس جانور کو دیکھنے کے لیے اس آدمی کے گھر آئے۔ کمرے میں اندھیرے کے باعث لوگ اپنے ہاتھ سے ہاتھی کو چھوتے تھے اور اپنے اندازے کے مطابق مختلف قیاس کرتے تھے۔ کسی کا ہاتھ پیر پر لگا تو اس نے کہا یہ کوئی اونٹ نما جانور ہے۔ کسی کا ہاتھ سونڈ پر لگا تو اس نے کہا یہ فلاں چیز ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح ہر ایک نے اس عظیم الجثہ جانور کا اپنے ذہن میں مختلف خاکہ بنایا۔
حاصلِ حکایت یہ ہے کہ انسان علم کی روشنی کے بغیر اندھا ہے۔ علم کے بغیر صرف اٹکلے دوڑائے جا سکتے ہیں۔اس حکایت میں اگر کمرے میں روشنی ہوتی تو ہر ایک پر روزِ روشن کی طرح ہاتھی کا خاکہ واضح ہو جاتا۔
جو علم کے جس مرتبے پر فائز ہوتا ہے اسی کے مطابق اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن انسان ہونے کے ناطے غلطی کے امکان کو رَد نہیں کیا جا سکتا۔ اس جہانِ فانی میں کسی کی رائے کو بھی حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا سوائے ارشادِ ربانی اور حدیثِ نبوی ﷺ کے۔
سائنس کی دنیا میں لوگوں نے اپنے نظریات پیش کیے، اور کئی سال تک انہیں غلط ثابت نہ کیا جا سکا۔ لیکن جوں جوں سائنس نے ترقی کی اور انسان کا علم وسیع ہوتا گیا، ماضی کے نظریات کوتحقیق کی بنیاد پر غلط ثابت کرکے اُن کو بدلنا پڑا۔مگر قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کا ایک ایک حرف محفوظ ہے، اور اس میں قیامت تک رہنمائی کا سارا مواد موجود بھی ہے۔ اور قیامت تک انسان کی رہنمائی ذمہ لینے والی اس کتاب کے احکامات ایسے ہیں جن کیں کسی بھی دور میں تبدیلی کی ضرورت ہی کبھی محسوس نہیں کی گئی۔ ہر دور کے انسان کی رہنمائیاس میں موجود ہے۔ اس کی تعلیمات میں کبھی تشنگی اور کمی کو محسوس ہی نہی کی گئی، اس لئے کہ یہ کامل و اکمل دین کا دستور اور ضابطہ حیات ہے، اور اسی بات کا اعلان اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:
اَلیَومَ اَکمَلتُ لَکُم دِینُکُم وَ اَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُمُ الاِسلَامَ دِینَا}
’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کیا، اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کیں اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔‘‘ (سورت المائدہ ،آیت: 3)
قرآن کریم میں دو الفاظ آئے ہیں:
ظُلُمَات اور نور
ایمان کو نور اور کفر وجہالت اور شرک کو ظُلُمَات کہا گیا ہے۔
چونکہ اللہ کا پسندیدہ راستہ ایمان ایک ہی ہے اس لئے اسے واحد کے صیغہ سے ذکر کیا گیا، جبکہ کفر و شرک اور جالت کے راستے بے شمار ہیں، جن کو شیطان کے پھندے اور جال سمجھو، اور شیطان کے پھندے اور جال ہر جگہ، ہر علاقے اور ہر انسان کے اعتبار سے مختلف ہیں ، اور مقصد یہی ہےکہ کوئی اس جال میں پھنسنے سے رہ نہ جائے۔
مثال کے طور پر کسی کی نظر میں دنیا دولت کو مزین کیا ، لیکن اگر وہ اس میں پھنس نہ سکا، تو پھراسے زنا کی جال میں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اس میں بھی نہ پھنسے تو پھر کسی اور جال کا استعمال ہوتا ہے، لہذا اللہ تعالیٰ شیطانی راستوں کو ایک تو گھپ اندھیرے سے تعبیر کیا جس میں انسان کسی بھی وقت کہیں سے بھی لڑکھڑا سکتا ہے اور دوسرے یہ کہ اس کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا۔ اور ہمیں خبردار کیا دیکھو! شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس کے پاس تمہیں گمراہ کرنے کے لئے بے شمار ہتھیار موجود ہیں۔
شیطان کی جال سے بچنے کا نسخہ
جہالت کی تاریکی سے نکلنے کا راستہ رسول اللہﷺ نے بتلایا ہے، فرمایا:
’’میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہاہوں۔ اگرتم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھوگے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے یعنی قرآن وسنت۔‘‘ (مئوطا امام مالک،کتاب الجامع،باب النہی عن القول بالقدر)
ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا:
{انی قد ترکتکم علی مثل البیضاء لیلھا کنھارھا،لا یزیغ عنھا بعدی الا ھالک}
’’میں تمہیں ایک ایسی شاہراہ پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات بھی اس کی دن کی طرح روشن ہے۔ میرے بعد اس راستے سے وہی منحرف ہو سکتا ہے ، جو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا ہوگا۔‘‘
(سنن ابن ماجہ۔۔۔۔۔۔مسند احمد)
سیدناابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، آپ فرماتے ہں کہ:
{ترکنا رسول اللہ ﷺ و ما طائر یقلب جناحیہ فی الہواء و ہو یذکر لنا منہ علما،قال: فقال النبیﷺ:ما بقی شی یقرب من الجنۃ و یباعد من النار الا وقد بینتہ لکم}
’’رسول اللہﷺ نے ہمیں ا س حال میں چھوڑا کہ ہوا میں پرندوں کے پروں کے پھڑپھڑانے کے بارے میں بھی بتایایعنی دین کی ایک ایک تفصیل ہمیں بتائی۔ ابو ذررضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا:میں نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ ایسی کوئی چیز باقی نہیں رہی جو جنت کے قریب لے جاتی ہو، اور دوزخ سے دور رکھتی ہو،اور میں نے وہ بیان نہ کی ہو۔‘‘(المعجم الکبیرللطبرانی)
لہذا آج کل کے فتنوں بھری دور میں نجات کا راستہ اور گمراہی سے بچنے کا نسخہ صرف قرآن و سنت کی پیروی میں ہے۔ اور آخرت میں نجات دسرت عقیدے کی بنای پر ملے گی اور درست عقیدہ وہی ہے جس میں توحید و سنت پر مرتے دم تک انسان عمل پیرا رہے اور توحید کو اس کی ضد شرک سے، اور سنت کو اس کی ضد بدعات سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں قرآن و سنت پر عمل کرنے والا بنا دے، آمین۔

Scroll to Top